العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ثنا بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا قَامَ فَقَالَ سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِيَ وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَقَالَ مَنِ الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ؟ قَالَ مُنَافِقُوا قُرَيْشٍ قَالَ فَمَنِ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا؟ قَالَ مِنْهُمْ أَهْلُ حَرُورَاءَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَالٍ» وَبَسَّامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) — Abu al-Tufayl Amir ibn Wathilah narrated: I heard Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) stand and say: Ask me before you lose me, for you shall not ask anyone like me after me. Ibn al-Kawwa stood and asked: Who are 'those who exchanged the favor of Allah for disbelief and settled their people in the abode of ruin' (Ibrahim: 28)? He said: The hypocrites of Quraysh. He asked: Then who are 'those whose effort is lost in worldly life while they think they are doing good' (al-Kahf: 104)? He said: Among them are the people of Harura. This is a sound and elevated hadith.
الترجمة الأردية
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے — ابوالطفیل عامر بن واثلہ نے بیان کیا: میں نے حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو کھڑے ہو کر فرماتے سنا: مجھ سے پوچھ لو مجھے کھو دینے سے پہلے، کیونکہ تم میرے بعد میرے جیسے سے نہیں پوچھ سکو گے۔ ابن الکواء کھڑا ہوا اور پوچھا: وہ کون ہیں 'جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا' (ابراہیم: 28)؟ فرمایا: قریش کے منافقین۔ پوچھا: پھر وہ کون ہیں 'جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہو گئی حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں' (الکہف: 104)؟ فرمایا: ان میں اہلِ حروراء ہیں۔ یہ صحیح اور عالی حدیث ہے۔
