العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ كَانَتَا مِنْ مَشَاعِرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ} [البقرة 158] اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِه��مَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» على شرط البخاري ومسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) was asked about Safa and Marwah. He said: 'They were from the rituals of the pre-Islamic era. When Islam came, we refrained from them. Then Allah revealed: Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah. So whoever makes Hajj to the House or performs Umrah, there is no blame upon him for walking between them. And whoever volunteers good, then indeed Allah is Appreciative and Knowing' (Al-Baqarah: 158). This hadith is sound upon the condition of the two Shaykhs.
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صفا اور مروہ کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا: یہ جاہلیت کی رسومات میں سے تھیں۔ جب اسلام آیا تو ہم ان سے رک گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ پس جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کے درمیان سعی کرے۔ اور جو نیکی میں آگے بڑھے تو بے شک اللہ قدردان اور جاننے والا ہے (البقرۃ: ۱۵۸)۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
