العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَطِيعِيُّ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَ��ْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ أُحُدٍ مَرَّ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ مَقْتُولٌ عَلَى طَرِيقِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب 23] ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَشْهَدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ شُهَدَاءُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأْتُوهُمْ وَزُورُوهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا رُدُّوا عَلَيْهِ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) returned from Uhud, he passed by Hadrat Mus'ab ibn Umayr (may Allah be well pleased with him) who had been killed on his path. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood over him and supplicated for him, then recited this verse: 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah. Among them is he who has fulfilled his vow, and among them is he who awaits, and they have not altered in the least' [al-Ahzab: 23]. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'I bear witness that these are martyrs in the sight of Allah on the Day of Resurrection. So visit them and come to them. By the One in Whose Hand is my soul, no one sends salam upon them until the Day of Resurrection except that they return it.'
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اُحد سے واپس آئے تو آپ کا گزر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سے ہوا جو راستے میں شہید ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس رکے اور ان کے لیے دعا فرمائی، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: 'مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے اپنا عہد سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کسی نے اپنی نذر پوری کر دی اور ان میں سے کوئی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ذرا بھی تبدیلی نہیں کی' [الاحزاب: 23]۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہید ہیں۔ پس ان کے پاس آؤ اور ان کی زیارت کرو۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت تک جو بھی ان پر سلام بھیجے گا وہ اسے جواب دیں گے۔'
