العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقَعْنَبِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حِبَّانَ ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ وَاللَّفْظُ لَ��ُ ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ ثنا أَبُو عَمَّارٍ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي فَلَبِسْتُ حُلَّتِي فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْطُبُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ قَالَ «إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يُمْنٍ وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ» فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَهُوَ أَصْلٌ فِي كَلَامِ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ فِيمَا يَبْدُو لَهُ فِي الْوَقْتِ» على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jarir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with him) narrated: When I approached the city of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I made my camel kneel, opened my bag, and wore my best garment. I entered while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was delivering the sermon. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) greeted me, and the people stared at me. I asked my companion: O Abdullah, did the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) mention anything about me? He said: Yes, he mentioned you with the best of mention. He stated: 'There will enter upon you from this gate, or from this mountain pass, one of the best of those from Yemen, and upon his face is the mark of an angel.' So I praised Allah for what He had bestowed upon me. This hadith is authentic on the condition of the two Shaykhs.
الترجمة الأردية
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شہر (مدینہ) کے قریب پہنچا تو اپنی سواری بٹھائی، اپنا تھیلا کھولا، اپنا اچھا لباس پہنا اور داخل ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کیا تو لوگ مجھے غور سے دیکھنے لگے۔ میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بارے میں کچھ ذکر فرمایا؟ کہا: ہاں، آپ نے بہترین ذکر فرمایا: 'ابھی اس دروازے سے یا اس گھاٹی سے تمہارے پاس یمن کے بہترین لوگوں میں سے ایک شخص آئے گا اور اس کے چہرے پر فرشتے کا نشان ہے۔' تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جو اس نے مجھے عطا فرمایا۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
