الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Musa (may Allah be pleased with him): When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the Battle of Hunain, he appointed Abu Amir as commander of a force sent toward Awtas, where the Hawazin tribe had gathered. Abu Amir fought Duraid bin As-Simmah, who was killed, and Allah defeated his companions. Abu Musa said: "The Messenger of Allah had sent me with Abu Amir. Abu Amir was struck by an arrow in his knee, shot by a man from the Jusham tribe. I went to him and asked: 'O uncle! Who shot you?' He pointed to his killer." Abu Musa went after the man, and when the man saw him, he fled. Abu Musa called out: "Aren't you ashamed? Won't you stop?" The man stopped and they exchanged two sword blows, then Abu Musa killed him. He returned and told Abu Amir: "Allah has killed your assailant." Abu Amir said: "Pull out this arrow." When Abu Musa pulled it out, water began flowing from the wound. Abu Amir said: "O my nephew! Convey my greetings to the Prophet and ask him to seek forgiveness for me." Abu Amir then appointed Abu Musa as his deputy over the people and shortly after was martyred. When Abu Musa returned and told the Prophet, who was lying on a bed of palm fiber with marks on his side, the Prophet asked for water, performed ablution, raised his hands and prayed: "O Allah! Forgive Your servant Ubaid Abu Amir." He raised his hands so high that Abu Musa could see the whiteness of his armpits. Then the Prophet prayed: "O Allah! Elevate Abu Amir's rank above many of Your creation on the Day of Judgment." Abu Musa asked: "O Messenger of Allah! Pray for forgiveness for me too." The Prophet said: "O Allah! Forgive the sins of Abdullah bin Qais (Abu Musa) and admit him to a good place (Paradise) on the Day of Judgment."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہجب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمغزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کو امیر لشکر بنا کر اوطاس کی طرف روانہ فرمایا (جہاں پر قبیلہ ہوازن جمع تھا) سیدنا ابوعامر کا درید بن صمہ سے مقابلہ ہوا، درید مارا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔ پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مجھے بھی بھیجا تھا۔ اتفاق سے ان کے گھٹنے پر زخم آیا، ایک جشمی مرد نے ان کو تیر مارا جو ان کے گھٹنے میں اتار دیا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ اے چچا! تمہیں کس نے تیر مارا؟ انھوں نے مجھے اشارے سے بتایا کہ فلاں میرا قاتل ہے، جس نے مجھے تیر مارا ہے۔ میں ارادہ کر کے اس کے پاس پہنچا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو بھاگا۔ میں اس کے پیچھے جاتا تھا اور یہ کہتا تھا (او بےحیاء!) تجھے شرم نہیں آتی، تو ٹھہرتا کیوں نہیں؟ پھر وہ ٹھہر گیا۔ میرے اور اس کے درمیان تلوار کے دو وار ہوئے، پھر میں نے اسے مار ڈالا۔ پھر میں نے آ کر ابوعامر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو ہلاک کروا دیا۔ وہ بولے کہ یہ تیر تو نکال لے۔ میں نے وہ تیر نکالا تو اس زخم سے پانی بہنے لگا۔ پھر وہ بولے کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو میری طرف سے سلام عرض کرنا اور کہنا کہ وہ ابوعامر کے لیے استغفار کریں۔ پھر ابوعامر رضی اللہ عنہ نے مجھے لوگوں پر اپنا قائم مقام بنا دیا۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ شہید ہو گئے۔ جب میں جنگ سے لوٹا تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمکھجور کی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے تھے اور پہلو مبارک میں رسی کے نشان پڑ گئے تھے۔ میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اپنا اور ابوعامر رضی اللہ عنہ کا حال بیان کیا اور کہا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے مغفرت کی دعا کرنے کی درخواست کی ہے۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی:”اے اللہ! عبید ابوعامر (رضی اللہ عنہ) کو بخش دے۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اتنے ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر یوں دعا فرمائی”اے اللہ! ابوعامر کا قیامت کے روز بہت سی مخلوق نوع انسانی پر درجہ بلند کرنا۔“میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعائے مغفرت کیجئیے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کہا:”اے اللہ! عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کے گناہ معاف فرما دے اور قیامت کے دن اچھی جگہ (جنت میں) داخل فرما۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1667]
