الترجمة الإنجليزية
Narrated Az-Zubair (may Allah be pleased with him): On the Day of Badr, I encountered Ubaidah bin Said bin Al-Aas. He was so covered with armor that only his eyes were visible. His nickname was Abu Dhat Al-Karish. He said: "I am Abu Dhat Al-Karish." I attacked him with my spear and struck his eye, and he died. I placed my foot on his body and pulled the spear out with great difficulty, as both its ends were bent. I then gave that spear to the Messenger of Allah. When the Messenger of Allah died, I took it back. Then Abu Bakr asked me for it and I gave it to him. When Abu Bakr died, Umar asked for it and I gave it to him. When Umar was martyred, I took it back. Then Uthman asked for it and I gave it to him. When Uthman was martyred, it remained with Ali and his descendants. Eventually Abdullah bin Az-Zubair obtained it from them, and it stayed with him until he was martyred.
الترجمة الأردية
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہمیں جنگ بدر کے دن عبیدہ بن سعید بن عاص سے ملا اور وہ ہتھیاروں میں اس طرح غرق تھا کہ اس کی صرف دونوں آنکھیں نظر آ رہی تھیں اور اس کی کنیت ابوذات الکرش تھی، پس اس نے کہا کہ میں ابوذات الکرش ہوں، میں نے اس پر اپنے نیزے سے حملہ کیا، اس کی آنکھ پر (نیزہ) مارا تو وہ مر گیا۔ (سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ جب وہ مر گیا تو میں نے اپنا پاؤں اس کی لاش پر رکھا اور دونوں ہاتھ لمبے کر کے بہت مشکل سے وہ نیزہ اس کی آنکھ سے نکالا، اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہو گئے تھے، پس یہ نیزہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے مانگا تو میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دیدیا، پھر جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی وفات ہو گئی تو میں نے (پھر) لے لیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وہ نیزہ مانگا تو میں نے انھیں دے دیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مانگا، میں نے انھیں دے دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہوئی تو میں نے لے لیا۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مانگا تو میں نے انھیں دے دیا۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (اور ان) کی اولاد کے پاس رہا۔ آخر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے مانگ لیا اور وہ ان کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1607]
