العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ. قُلْتُ لِعَطَاءٍ زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لاَ وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ، تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ. قُلْتُ أَتُرَى حَقًّا عَلَى الإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ قَالَ إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لاَ يَفْعَلُونَهُ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) says: 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood on the day of Eid al-Fitr and led the prayer — he began with the prayer, then delivered the sermon. When he finished, he came down and went to the women, admonishing them — he was leaning on the hand of Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) and Hadrat Bilal had spread out his cloth in which the women were placing charity.' I asked Ata' (upon him be mercy): 'Was it the Zakat al-Fitr?' He said: 'No, it was ordinary charity that they were giving at that time. A woman would throw her ring' — the narrator says: 'They would drop their rings and toss them into the cloth of Hadrat Bilal.'
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی — نماز سے شروع فرمایا پھر خطبہ دیا۔ جب فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس تشریف لے گئے، انہیں نصیحت فرمائی — آپ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ میں نے عطاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا: کیا یہ زکاۃ الفطر ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ عام صدقہ ہے جو وہ اس وقت دیتی تھیں۔ عورت اپنی انگوٹھی ڈالتی جاتی — راوی کہتے ہیں: وہ اپنی انگوٹھیاں ڈالتی جاتیں اور حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتیں۔
