العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ فَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ. قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا مَا رَبُّ النَّعَمِ لَمْ يُعْطِ حَقَّهَا، تُسَلَّطُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَخْبِطُ وَجْهَهُ بِأَخْفَافِهَا ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ فِي رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ، فَخَافَ أَنْ تَجِبَ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَبَاعَهَا بِإِبِلٍ مِثْلِهَا، أَوْ بِغَنَمٍ، أَوْ بِبَقَرٍ، أَوْ بِدَرَاهِمَ، فِرَارًا مِنَ الصَّدَقَةِ بِيَوْمٍ، احْتِيَالاً فَلاَ بَأْسَ عَلَيْهِ، وَهْوَ يَقُولُ إِنْ زَكَّى إِبِلَهُ قَبْلَ أَنْ يَحُولَ الْحَوْلُ بِيَوْمٍ أَوْ بِسَنَةٍ، جَازَتْ عَنْهُ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'On the Day of Resurrection, the hoarded treasure of anyone among you (whose zakat was not paid) will appear in the form of a huge bald-headed poisonous serpent. Its owner will flee from it, but it will pursue him saying: I am your treasure. By Allah, it will keep pursuing him until he stretches out his hand and it swallows it.' And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'When the owner of camels does not pay their due (zakat), those camels will be empowered over him on the Day of Resurrection, striking his face with their hooves.' Some people said: If a man has camels and fears that zakat will become due, he may sell them a day before the due date for similar camels, sheep, cattle, or dirhams to escape zakat as a trick — then nothing is due from him. The same scholar said: If one pays zakat on his camels a day or a year before the year is completed, it is accepted.
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک کا (وہ) خزانہ (جس کی زکوٰۃ نہ دی ہو) ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں ظاہر ہوگا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا مگر سانپ اس کے پیچھے آئے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ اللہ کی قسم! وہ سانپ اس کا پیچھا کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنا ہاتھ پھیلائے گا اور سانپ اسے اپنے منہ میں ڈال لے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اونٹوں کا مالک ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اونٹ اس پر مسلط کیے جائیں گے اور اپنے کھروں سے اس کے چہرے کو روندیں گے۔ بعض لوگوں نے کہا: اگر کسی کے پاس اونٹ ہوں اور اسے خطرہ ہو کہ زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، تو وہ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ایک دن پہلے انہیں بیچ کر ویسے ہی اونٹ، بکریاں، گائیں یا درہم خرید لے، حیلے کے طور پر، تو اس پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اور یہی شخص کہتا ہے کہ اگر سال پورا ہونے سے ایک دن پہلے یا ایک سال پہلے زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو وہ کافی ہو جائے گی۔
