العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، أَوْ مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا. ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلاَءِ الثَّلاَثِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ " لَهُنَّ كُلِّهِنَّ يَوْمَئِذٍ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ قَالَ " افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat 'Uthman ibn al-Haytham, or Muhammad from him, narrated to us from Ibn Jurayj, who said: I heard Ibn Shihab say: 'Isa ibn Talhah narrated to me that 'Abd Allah ibn 'Amr ibn al-'As (may Allah be well pleased with them both) narrated to him that while the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was delivering a sermon on the Day of Sacrifice (10th Dhul Hijjah), a man stood and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I thought such-and-such should be done before such-and-such. Then another stood and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I thought such-and-such should be done before such-and-such, regarding these three (matters). The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Do it, there is no harm" — for all of them on that day. And whatever he was asked about on that day, he stated: "Do it, there is no harm."
الترجمة الأردية
ہم سے حضرت عثمان بن ہیثم نے یا محمد نے ان سے، انہوں نے ابن جریج سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میں نے ابن شہاب کو فرماتے سنا: مجھ سے عیسیٰ بن حضرت طلحہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یومِ نحر (دس ذی الحجہ) کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خیال تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہونا چاہیے۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہونا چاہیے، ان تینوں (معاملات) کے بارے میں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کر لو، کوئی حرج نہیں" یہ ان سب کے بارے میں اس دن فرمایا۔ اس دن جو بھی سوال کیا گیا آپ نے فرمایا: "کر لو، کوئی حرج نہیں۔"
