حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas that I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Ka`b used to ask me about it. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) became the bridegroom of Hadrat Zainab bint Jahsh whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) invited the people to a meal. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of `Hadrat Aisha's room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of `Hadrat Aisha's room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed
الترجمة الأردية
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ ( کھانے سے فارغ ہو کر ) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ ( بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے ) جا چکے ہوں گے ( اس لیے آپ واپس تشریف لائے ) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حَدَّثنا محمد بن مسكين حَدَّثنا عبد الله بن صالح حَدَّثنا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيل عَن ابْنِ شِهَابٍ قَال أَخْبَرني أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَا…
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا فَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ باب حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ.
It is narrated by Hadrat Anas that I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Ka`b used to ask me about it. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) became the bridegroom of Hadrat Zainab bint Jahsh whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) invited the people to a meal. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of `Hadrat Aisha's room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of `Hadrat Aisha's room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ ( کھانے سے فارغ ہو کر ) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ ( بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے ) جا چکے ہوں گے ( اس لیے آپ واپس تشریف لائے ) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔