Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ ". فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَتَّكِلُ فَقَالَ " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ". ثُمَّ قَرَأَ {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى * وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} إِلَى قَوْلِهِ {لِلْعُسْرَى}
English Translation
It is narrated by Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) that we were in the company of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in a funeral procession at Baqi Al-Gharqad. He said, "There is none of you but has his place written for him in Paradise or in the Hell- Fire." They said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)! Shall we depend (on this fact and give up work)?" He said, "Carry on doing (good deeds), for every body will find it easy to do (what will lead him to his destined place)." Then he recited: 'As for him who gives (in charity) and keeps his duty to Allah, and believes in the Best reward from Allah (i.e. Allah will compensate him for what he will spend in Allah's way). So, We will make smooth for him the path of ease. But he who is a greedy miser....for him, the path for evil
Urdu Translation
ہم سے حضرت ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بقیع الغرقد ( مدینہ منورہ کے قبرستان ) میں ایک جنازہ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانا جنت یا جہنم میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمل کرتے رہو کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ملتی رہتی ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آیت «فأما من أعطى واتقى * وصدق بالحسنى» آخر تک پڑھی۔ یعنی ہم اس کے لیے نیک کام آسان کر دیں گے۔
