العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَتْ مَنْ قَالَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَانْخَنَثَ فَمَاتَ، فَمَا شَعَرْتُ، فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by al-Aswad that it was mentioned in the presence of Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had appointed Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) as successor by will. She said, 'Who said so? I saw the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while I was supporting him against my chest. He asked for a basin, and then he collapsed in my lap and departed this world, and I did not even realize it. So when did he make such a bequest?'
الترجمة الأردية
حضرت اسود بن یزید سے روایت ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے یہ ذکر ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو اپنا جانشین مقرر کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: کس نے یہ کہا؟ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ نے طشت مانگا اور میری گود میں ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا اور مجھے پتا بھی نہ چلا، تو آپ نے کب وصیت فرمائی؟
