العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَىَّ فَأُوحِيَ إِلَىَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'While I was sleeping, I was given the treasures of the earth and two golden bangles were placed in my hands. They were heavy upon me. I received the inspiration to blow on them, so I blew and they both vanished. I interpreted them as the two liars: the one from Yemen (Aswad al-Ansi) and the one from Yamama (Musaylima the Liar).'
الترجمة الأردية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں سو رہا تھا کہ مجھے زمین کے خزانے دیے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بھاری لگے۔ مجھے الہام ہوا کہ ان پر پھونک ماروں، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں غائب ہو گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹے (نبوت کے دعویدار) نکالی: یمن والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)۔
