حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". فَقُلْتُ بَلَى. فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ. قَالَ وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ، فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ، يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ. قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا. قَالَ وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالأَزْلاَمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَا هُنَا فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ. قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ فَقَالَ لَتَكْسِرَنَّهَا وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَوْ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ. قَالَ فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. قَالَ فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jarir (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared to me, 'Will you not relieve me of Dhu al-Khalasa?' I submitted, 'Certainly!' I set out with one hundred and fifty horsemen from the Ahmas tribe who were skilled riders. I could not sit firmly on horseback, so I mentioned this to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He struck his blessed hand on my chest until I saw the mark of his hand on my chest and prayed, 'O Allah! Make him steadfast, and make him one who guides and is guided.' After that I never fell from a horse. Dhu al-Khalasa was a house in Yemen belonging to the Khath'am and Bajila tribes, containing idols that were worshipped, and it was called 'the Ka'ba.' He went there, burned it with fire, and demolished it. When Hadrat Jarir (may Allah be well pleased with him) reached Yemen, there was a man who used to divine by casting arrows. He was told, 'The envoy of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is here; if he catches you, he will strike your neck.' One day while the man was casting his arrows, Jarir stood before him and said, 'Break them and testify that there is no deity worthy of worship except Allah, or I shall strike your neck.' The man broke them and testified. Then Jarir sent a man of Ahmas called Abu Arta'a to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to convey the glad tidings. When he came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he submitted, 'By Him who sent you with the truth! I did not leave it until it was like a mangy camel.' The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) invoked blessings upon the horses and men of Ahmas five times.
الترجمة الأردية
حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں دو گے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! پس میں ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ احمس قبیلے سے روانہ ہوا جو گھڑ سواری میں ماہر تھے۔ میں گھوڑے پر ٹھیک نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیکھا اور ارشاد فرمایا: اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔ اس کے بعد میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ ذوالخلصہ یمن میں خثعم اور بجیلہ قبائل کا ایک گھر تھا جس میں بت رکھے ہوئے تھے جن کی پوجا ہوتی تھی اور اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ وہ وہاں گئے اور اسے آگ لگا کر جلایا اور توڑ ڈالا۔ جب حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالتا تھا۔ اس سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد یہاں ہے اور اگر اس نے تمہیں پکڑ لیا تو تمہاری گردن مار دے گا۔ ایک دن وہ تیر ڈال رہا تھا کہ جریر اس کے پاس آ کھڑے ہوئے اور فرمایا: انہیں توڑ ڈال اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ اس نے توڑ دیے اور گواہی دی۔ پھر جریر نے احمس کے ایک شخص ابو ارطاۃ کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری لے کر بھیجا۔ جب وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں اسے نہیں چھوڑ کر آیا جب تک اسے خارش زدہ اونٹ جیسا نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے احمس کے گھوڑوں اور مردوں پر پانچ بار برکت کی دعا فرمائی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (11)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه و…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَ…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي …
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". فَقُلْتُ بَلَى. فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". قَالَ فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ. قَالَ وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ، فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ، يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ. قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا. قَالَ وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالأَزْلاَمِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَا هُنَا فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ. قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ فَقَالَ لَتَكْسِرَنَّهَا وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَوْ لأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ. قَالَ فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلاً مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. قَالَ فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.
Hadrat Jarir (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared to me, 'Will you not relieve me of Dhu al-Khalasa?' I submitted, 'Certainly!' I set out with one hundred and fifty horsemen from the Ahmas tribe who were skilled riders. I could not sit firmly on horseback, so I mentioned this to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He struck his blessed hand on my chest until I saw the mark of his hand on my chest and prayed, 'O Allah! Make him steadfast, and make him one who guides and is guided.' After that I never fell from a horse. Dhu al-Khalasa was a house in Yemen belonging to the Khath'am and Bajila tribes, containing idols that were worshipped, and it was called 'the Ka'ba.' He went there, burned it with fire, and demolished it. When Hadrat Jarir (may Allah be well pleased with him) reached Yemen, there was a man who used to divine by casting arrows. He was told, 'The envoy of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is here; if he catches you, he will strike your neck.' One day while the man was casting his arrows, Jarir stood before him and said, 'Break them and testify that there is no deity worthy of worship except Allah, or I shall strike your neck.' The man broke them and testified. Then Jarir sent a man of Ahmas called Abu Arta'a to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to convey the glad tidings. When he came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he submitted, 'By Him who sent you with the truth! I did not leave it until it was like a mangy camel.' The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) invoked blessings upon the horses and men of Ahmas five times.
حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں دو گے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! پس میں ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ احمس قبیلے سے روانہ ہوا جو گھڑ سواری میں ماہر تھے۔ میں گھوڑے پر ٹھیک نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کا نشان دیکھا اور ارشاد فرمایا: اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔ اس کے بعد میں کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔ ذوالخلصہ یمن میں خثعم اور بجیلہ قبائل کا ایک گھر تھا جس میں بت رکھے ہوئے تھے جن کی پوجا ہوتی تھی اور اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ وہ وہاں گئے اور اسے آگ لگا کر جلایا اور توڑ ڈالا۔ جب حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالتا تھا۔ اس سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد یہاں ہے اور اگر اس نے تمہیں پکڑ لیا تو تمہاری گردن مار دے گا۔ ایک دن وہ تیر ڈال رہا تھا کہ جریر اس کے پاس آ کھڑے ہوئے اور فرمایا: انہیں توڑ ڈال اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ اس نے توڑ دیے اور گواہی دی۔ پھر جریر نے احمس کے ایک شخص ابو ارطاۃ کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خوشخبری لے کر بھیجا۔ جب وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں اسے نہیں چھوڑ کر آیا جب تک اسے خارش زدہ اونٹ جیسا نہیں کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے احمس کے گھوڑوں اور مردوں پر پانچ بار برکت کی دعا فرمائی۔