صحيح البخاريFighting for the Cause of Allah (Jihaad)#3076صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ. قَالَ مُسَدَّدٌ بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ.
الترجمة الإنجليزية
(Qays narrates:) Hadrat Jarir bin Abdullah (may Allah be well pleased with him) said to me: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated to me: "Will you not relieve me of Dhul-Khalasa?" It was an idol-house of Khath'am called 'the Ka'ba of Yemen.' I set out with one hundred and fifty horsemen from Ahmas, and they were skilled riders. I told the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) that I could not stay firm on horseback. He struck my chest until I saw the marks of his blessed fingers on my chest, and prayed: "O Allah! Make him firm, and make him a guide and rightly guided." Then he went to it, broke it, and burned it. Then he sent to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with glad tidings. The messenger of Jarir (may Allah be well pleased with him) submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By the One Who sent you with the truth, I did not come to you until I left it like a mangy camel. He prayed for blessings upon the horses and men of Ahmas five times.
الترجمة الأردية
(قیس سے روایت ہے، فرماتے ہیں:) حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہ دو گے؟" یہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا جسے 'کعبۂ یمانیہ' کہتے تھے۔ میں ڈیڑھ سو احمسی سواروں کے ساتھ روانہ ہوا، وہ شہسوار تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ میں گھوڑے پر ٹھہر نہیں پاتا۔ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپ کی مبارک انگلیوں کا نشان دیکھا، اور ارشاد فرمایا: "اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنا۔" پھر وہ اس (بت خانے) کی طرف گئے، اسے توڑا اور جلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری بھیجی۔ جریر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے قاصد نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک اسے ایسا نہیں چھوڑا جیسے خارشی اونٹ ہو۔ آپ نے احمس کے گھوڑوں اور مردوں کے لیے پانچ بار دعائے برکت فرمائی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (12)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه و…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرٌ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَ…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم "…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ …
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ". وَكَانَ بَيْتًا فِيهِ خَثْعَمُ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةَ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةٍ مِنْ أَحْمَسَ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي فَقَالَ " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ". فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُبَشِّرُهُ فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ، فَبَارَكَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ. قَالَ مُسَدَّدٌ بَيْتٌ فِي خَثْعَمَ.
(Qays narrates:) Hadrat Jarir bin Abdullah (may Allah be well pleased with him) said to me: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated to me: "Will you not relieve me of Dhul-Khalasa?" It was an idol-house of Khath'am called 'the Ka'ba of Yemen.' I set out with one hundred and fifty horsemen from Ahmas, and they were skilled riders. I told the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) that I could not stay firm on horseback. He struck my chest until I saw the marks of his blessed fingers on my chest, and prayed: "O Allah! Make him firm, and make him a guide and rightly guided." Then he went to it, broke it, and burned it. Then he sent to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with glad tidings. The messenger of Jarir (may Allah be well pleased with him) submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By the One Who sent you with the truth, I did not come to you until I left it like a mangy camel. He prayed for blessings upon the horses and men of Ahmas five times.
(قیس سے روایت ہے، فرماتے ہیں:) حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہ دو گے؟" یہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا جسے 'کعبۂ یمانیہ' کہتے تھے۔ میں ڈیڑھ سو احمسی سواروں کے ساتھ روانہ ہوا، وہ شہسوار تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ میں گھوڑے پر ٹھہر نہیں پاتا۔ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے پر آپ کی مبارک انگلیوں کا نشان دیکھا، اور ارشاد فرمایا: "اے اللہ! اسے ثابت قدم رکھ اور ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ بنا۔" پھر وہ اس (بت خانے) کی طرف گئے، اسے توڑا اور جلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری بھیجی۔ جریر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے قاصد نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں آپ کے پاس نہیں آیا جب تک اسے ایسا نہیں چھوڑا جیسے خارشی اونٹ ہو۔ آپ نے احمس کے گھوڑوں اور مردوں کے لیے پانچ بار دعائے برکت فرمائی۔