صحيح البخاريMilitary Expeditions led by the Prophet (pbuh) (Al-Maghaazi)#4339صحيح
روىSalim narrates from his father, Hadrat Abdullah bin Umar
العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا. فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا، صَبَأْنَا. فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَاهُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". مَرَّتَيْنِ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Salim narrates from his father, Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both), that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Khalid bin Al-Walid (may Allah be well pleased with him) to the tribe of Banu Jadhima and Khalid invited them to Islam but they could not express themselves by saying 'Aslamna' (we have embraced Islam), but they started saying 'Saba'na! Saba'na!' (we have come out of one religion to another). Hadrat Khalid (may Allah be well pleased with him) kept on killing some of them and taking some of them as captives, and he distributed a captive to each of us. One day, Hadrat Khalid (may Allah be well pleased with him) ordered each person to kill his captive. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'By Allah, I will not kill my captive, and none of my companions will kill theirs.' Until they came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) raised both his blessed hands and declared, 'O Allah! I am free from what Khalid has done.' He declared this twice.
الترجمة الأردية
حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن وہ لوگ صحیح طور پر 'اسلمنا' (ہم مسلمان ہو گئے) نہ فرما سکے اور 'صبأنا صبأنا' (ہم نے دین بدل لیا) کہنے لگے۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان میں سے کچھ کو قتل کیا اور کچھ کو قید کر لیا اور ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک قیدی دیا۔ ایک دن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو خبر دی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے اس سے میں بیزار ہوں۔ آپ نے یہ دعا دو مرتبہ فرمائی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (7)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدًا ح وَحَد…
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا. فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا، صَبَأْنَا. فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ مِنْهُمْ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي، وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَاهُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ". مَرَّتَيْنِ.
Hadrat Salim narrates from his father, Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both), that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Khalid bin Al-Walid (may Allah be well pleased with him) to the tribe of Banu Jadhima and Khalid invited them to Islam but they could not express themselves by saying 'Aslamna' (we have embraced Islam), but they started saying 'Saba'na! Saba'na!' (we have come out of one religion to another). Hadrat Khalid (may Allah be well pleased with him) kept on killing some of them and taking some of them as captives, and he distributed a captive to each of us. One day, Hadrat Khalid (may Allah be well pleased with him) ordered each person to kill his captive. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'By Allah, I will not kill my captive, and none of my companions will kill theirs.' Until they came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and informed him. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) raised both his blessed hands and declared, 'O Allah! I am free from what Khalid has done.' He declared this twice.
حضرت سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن وہ لوگ صحیح طور پر 'اسلمنا' (ہم مسلمان ہو گئے) نہ فرما سکے اور 'صبأنا صبأنا' (ہم نے دین بدل لیا) کہنے لگے۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان میں سے کچھ کو قتل کیا اور کچھ کو قید کر لیا اور ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک قیدی دیا۔ ایک دن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو خبر دی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا ہے اس سے میں بیزار ہوں۔ آپ نے یہ دعا دو مرتبہ فرمائی۔