العربية (الأصل)
حَدَّثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ أخبرَنا عَبد الرَّزَّاق أخبرَنا مَعْمَر عَن الزُّهْرِيّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَال بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جُذَيْمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلا وَأَسْرًا وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم ذَكَرَ لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ثلاث مرات وَسَلَّم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جُذَيْمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الإِسْلامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ قَتْلا وَأَسْرًا وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم ذَكَرَ لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ثلاث مرات
الترجمة الإنجليزية
Al-Husayn ibn Mahdi narrated to us, Abd ar-Razzaq informed us, Ma'mar informed us from az-Zuhri from Salim from his father who said: The Beloved Messenger of Allah ﷺ sent Hadrat Khalid ibn al-Walid (may Allah be well pleased with him) to Banu Judhaymah. He called them to Islam, but they could not properly say 'We have submitted (aslamna)', so they kept saying 'Saba'na, saba'na.' Khalid set about killing and capturing them, and gave to each man his prisoner. When morning came, Khalid commanded that each man among us should kill his prisoner. When we came to the Beloved Messenger of Allah ﷺ, Khalid's action was mentioned to him. He raised his hands and said: «O Allah, I disassociate myself to You from what Khalid has done» - three times.
الترجمة الأردية
حسین بن مہدی نے ہم سے بیان کیا، عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی، معمر نے ہمیں زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی، لیکن وہ ٹھیک سے 'اسلمنا' نہیں کہہ سکے، تو وہ کہتے رہے 'صبأنا، صبأنا'۔ خالد نے انہیں قتل اور قید کرنا شروع کر دیا، اور ہر آدمی کو اس کا قیدی دے دیا۔ جب صبح ہوئی تو خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے قیدی کو قتل کرے۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے خالد کے فعل کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اے اللہ! میں تیری طرف بری ہوتا ہوں اس سے جو خالد نے کیا» - تین مرتبہ۔
