العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلاَ لَهُمْ زَرْعٌ وَلاَ ضَرْعٌ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ، وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ، وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ. ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ. فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا. قَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ.
الترجمة الإنجليزية
Aslam (the freed slave of Hadrat Umar, may Allah be well pleased with him) states, 'I went with Hadrat Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) to the market. A young woman called out to him and said: O Commander of the Faithful! My husband has passed away leaving behind small children. By Allah, they have neither a goat's trotter nor a camel's udder, nor any harvest nor any wealth. I fear they may perish from hunger. I am the daughter of Khufaf bin Ima' al-Ghifari, and my father was present with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at al-Hudaybiyah. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) stopped and did not proceed further, then said: Welcome to a near relative. He then brought a strong camel that was tied in the house, loaded it with two sacks of food, placed some clothing and provisions between them, and gave its halter to the woman, saying: Take this. Before it runs out, Allah the Exalted will provide you with goodness.'
الترجمة الأردية
اسلم (جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے) فرماتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ ایک جوان عورت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا اور عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! میرا شوہر فوت ہو گیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ گیا ہے۔ اللہ کی قسم! ان کے پاس نہ بکری کی کھری ہے نہ اونٹنی کا تھن، نہ کوئی کھیتی ہے نہ کوئی مال۔ مجھے ڈر ہے کہ فاقوں سے ان کا بُرا حال نہ ہو۔ میں خُفاف بن ایماء غفاری کی بیٹی ہوں اور میرے والد حدیبیہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٹھہرے اور آگے نہیں بڑھے، پھر فرمایا: تمہارا قریبی رشتہ دار مبارک ہے۔ پھر ایک طاقتور اونٹ لائے جو گھر میں بندھا ہوا تھا، اس پر دو بوریاں کھانے کی لاد دیں اور ان کے درمیان کچھ کپڑے اور نفقہ رکھا، پھر اس کی نکیل اس عورت کو دے کر فرمایا: لے جاؤ، یہ ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہیں بھلائی دے گا۔
