العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn Mas`ud that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Soon others will be preferred to you, and there will be things which you will not like." The companions of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) inquired, "O the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ! What do you order us to do (in this case)? " He said, "(I order you) to give the rights that are on you and to ask your rights from Allah
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ ( یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا ) ۔
