حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ، {قَالَ مَا} أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ ". قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ. وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ. وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا ". قَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، إِنْ عَلِمُوا بِإِسْلاَمِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا أَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا وَأَخْبَرُنَا وَابْنُ أَخْيَرِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ ". قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا. وَوَقَعُوا فِيهِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that when Hadrat Abdullah bin Salam (may Allah be well pleased with him) learned of the arrival of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) at Madinah al-Munawwarah, he came to his blessed court and submitted, 'I wish to ask you about three matters that none knows except a prophet. What is the first sign of the Hour? What is the first food that the people of Paradise shall eat? And why does a child resemble its father, and why does it resemble its maternal relatives?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Jibril (upon him be peace) has just now informed me of their answers.' Hadrat Abdullah said, 'He is the one among the angels whom the Jews consider their enemy.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'The first sign of the Hour shall be a fire that will drive people from the east to the west. The first food that the people of Paradise shall eat will be the extra lobe of fish liver. As for the child's resemblance: when a man approaches his wife and his fluid precedes hers, the child resembles the father; and if her fluid precedes his, the child resembles her.' Hadrat Abdullah bin Salam (may Allah be well pleased with him) submitted, 'I bear witness that you are the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' Then he submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! The Jews are a people of great slander. If they learn of my acceptance of Islam before you ask them about me, they will fabricate lies against me before you.' Then some Jews came, and Hadrat Abdullah went inside the house. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked them, 'What sort of man is Abdullah bin Salam among you?' They replied, 'He is the most learned among us and the son of the most learned, the best among us and the son of the best.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'What would you say if Hadrat Abdullah were to embrace Islam?' They said, 'May Allah protect him from that!' Then Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) came out before them and declared, 'I bear witness that there is no deity but Allah and I bear witness that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' They immediately said, 'He is the worst among us and the son of the worst among us,' and began reviling him.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مروان فزاری نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کروں گا جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے اہل جنت کو کھلایا جائے گا؟ اور کس سبب سے بچہ اپنے والد کے مشابہ ہوتا ہے اور کس سبب سے اپنی ننھیال کے مشابہ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے ان باتوں کی خبر دی ہے۔" حضرت عبداللہ نے کہا کہ فرشتوں میں یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کو کھلایا جائے گا وہ مچھلی کی کلیجی کا اوپر والا ٹکڑا ہو گا۔ اور بچے کی مشابہت کا معاملہ یہ ہے کہ جب مرد عورت سے قریب ہوتا ہے تو اگر مرد کی منی سبقت کر جائے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور اگر عورت کی منی سبقت کر جائے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔" حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔" پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہود بہت بڑی بہتان لگانے والی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت فرمانے سے پہلے انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو گیا تو یہ آپ کے سامنے مجھ پر بہتان باندھیں گے۔ چنانچہ یہودی آئے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کے اندر چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا "تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کی کیا حیثیت ہے؟" سب نے کہا: وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحبزادے ہیں، ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے صاحبزادے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو تمہارا کیا خیال ہو گا؟" انہوں نے کہا: اللہ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے اور ان کی برائی کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ، {قَالَ مَا} أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ ". قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ. وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ. وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا ". قَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، إِنْ عَلِمُوا بِإِسْلاَمِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ". قَالُوا أَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا وَأَخْبَرُنَا وَابْنُ أَخْيَرِنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ ". قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا. وَوَقَعُوا فِيهِ.
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that when Hadrat Abdullah bin Salam (may Allah be well pleased with him) learned of the arrival of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) at Madinah al-Munawwarah, he came to his blessed court and submitted, 'I wish to ask you about three matters that none knows except a prophet. What is the first sign of the Hour? What is the first food that the people of Paradise shall eat? And why does a child resemble its father, and why does it resemble its maternal relatives?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Jibril (upon him be peace) has just now informed me of their answers.' Hadrat Abdullah said, 'He is the one among the angels whom the Jews consider their enemy.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'The first sign of the Hour shall be a fire that will drive people from the east to the west. The first food that the people of Paradise shall eat will be the extra lobe of fish liver. As for the child's resemblance: when a man approaches his wife and his fluid precedes hers, the child resembles the father; and if her fluid precedes his, the child resembles her.' Hadrat Abdullah bin Salam (may Allah be well pleased with him) submitted, 'I bear witness that you are the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' Then he submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! The Jews are a people of great slander. If they learn of my acceptance of Islam before you ask them about me, they will fabricate lies against me before you.' Then some Jews came, and Hadrat Abdullah went inside the house. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked them, 'What sort of man is Abdullah bin Salam among you?' They replied, 'He is the most learned among us and the son of the most learned, the best among us and the son of the best.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'What would you say if Hadrat Abdullah were to embrace Islam?' They said, 'May Allah protect him from that!' Then Hadrat Abdullah (may Allah be well pleased with him) came out before them and declared, 'I bear witness that there is no deity but Allah and I bear witness that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).' They immediately said, 'He is the worst among us and the son of the worst among us,' and began reviling him.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مروان فزاری نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کروں گا جنہیں نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے؟ وہ کون سا کھانا ہے جو سب سے پہلے اہل جنت کو کھلایا جائے گا؟ اور کس سبب سے بچہ اپنے والد کے مشابہ ہوتا ہے اور کس سبب سے اپنی ننھیال کے مشابہ؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی مجھے ان باتوں کی خبر دی ہے۔" حضرت عبداللہ نے کہا کہ فرشتوں میں یہی تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کو کھلایا جائے گا وہ مچھلی کی کلیجی کا اوپر والا ٹکڑا ہو گا۔ اور بچے کی مشابہت کا معاملہ یہ ہے کہ جب مرد عورت سے قریب ہوتا ہے تو اگر مرد کی منی سبقت کر جائے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور اگر عورت کی منی سبقت کر جائے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔" حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔" پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہود بہت بڑی بہتان لگانے والی قوم ہے۔ اگر آپ کے دریافت فرمانے سے پہلے انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو گیا تو یہ آپ کے سامنے مجھ پر بہتان باندھیں گے۔ چنانچہ یہودی آئے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کے اندر چلے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا "تم لوگوں میں عبداللہ بن سلام کی کیا حیثیت ہے؟" سب نے کہا: وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحبزادے ہیں، ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے صاحبزادے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "اگر عبداللہ مسلمان ہو جائیں تو تمہارا کیا خیال ہو گا؟" انہوں نے کہا: اللہ انہیں اس سے محفوظ رکھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے اور ان کی برائی کرنے لگے۔