العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ {وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا} فَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، إِذْ خَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جُحْرِهَا فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا، فَسَبَقَتْنَا فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا ". وَعَنْ إِسْرَائِيلَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ قَالَ وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً. وَتَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ. وَقَالَ حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat ' Abdullah (bin Mas'ud, may Allah be well pleased with him) that he said: We were with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in a cave when Surah al-Mursalat was revealed — 'By the ones sent forth in gusts' — and we were receiving it fresh from his blessed lips, when a snake emerged from its hole. We rushed to kill it, but it outpaced us and re-entered its hole. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: It has been saved from your harm, just as you have been saved from its harm. (In another chain the same is narrated with the addition:) We were receiving it fresh from his blessed lips. And Abu 'Awana corroborated this through Mughira. And Hafs, Abu Mu'awiya, and Sulayman bin Qarm also narrated from al-A'mash, from Ibrahim, from al-Aswad, from Hadrat 'Abdullah (bin Mas'ud, may Allah be well pleased with him).
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے۔ اسی دوران سورۃ المرسلات «وَالْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا» نازل ہوئی اور ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے تازہ بتازہ اسے سن رہے تھے کہ ایک سانپ اپنے بل سے نکلا۔ ہم اسے مارنے کے لیے لپکے لیکن وہ ہم سے پہلے اپنے بل میں گھس گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ (دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ) ہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے اسے تازہ بتازہ سن رہے تھے۔ اور ابو عوانہ نے بھی مغیرہ سے اس حدیث کی متابعت کی ہے۔ اور حفص، ابو حضرت معاویہ اور سلیمان بن قرم نے بھی اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
