العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ، فَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ، وَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that Abu Sufyan reported that Heraclius sent for him while they were at Ilya' (Jerusalem). Then Heraclius called for the letter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When he finished reading the letter, there was a great commotion around him, voices were raised, and we were turned out. I said to my companions when we were turned out: Indeed, the affair of Ibn Abi Kabsha (i.e., Muhammad, blessings and peace of Allah be upon him) has become prominent; even the king of the Banu al-Asfar (Romans) fears him.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان نے بتایا کہ ہرقل نے ان کے پاس پیغام بھیجا جب وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں تھے۔ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خط منگوایا۔ جب وہ خط پڑھ چکا تو اس کے دربار میں شور و غل بڑھ گیا اور آوازیں بلند ہوئیں اور ہمیں نکال دیا گیا۔ جب ہمیں نکالا گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: بلاشبہ ابنِ ابی کبشہ (یعنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ بڑھ گیا ہے، بنو اصفر (رومیوں) کا بادشاہ بھی ان سے ڈرتا ہے۔
