العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نُسِخَتْ، وَلاَ وَاللَّهِ مَا نُسِخَتْ، وَلَكِنَّهَا مِمَّا تَهَاوَنَ النَّاسُ، هُمَا وَالِيَانِ وَالٍ يَرِثُ، وَذَاكَ الَّذِي يَرْزُقُ، وَوَالٍ لاَ يَرِثُ، فَذَاكَ الَّذِي يَقُولُ بِالْمَعْرُوفِ، يَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ.
الترجمة الإنجليزية
Muhammad bin al-Fadl Abu al-Nu'man narrated to us, Abu Awana narrated to us, from Abu Bishr, from Sa'id bin Jubayr (upon him be mercy), from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both), he stated: Indeed some people claim that this verse has been abrogated, but by Allah, it has not been abrogated. Rather, it is among those matters in which people have been negligent. There are two types of guardians: one guardian who inherits, and he is the one who shall be given provision (from the wealth); and another guardian who does not inherit, and he is the one about whom it is said that he should speak with kindness, saying: I do not have the authority to give you anything.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن الفضل ابو النعمان نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ابو بشر سے، سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، انہوں نے فرمایا: بے شک کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے، لیکن اللہ کی قسم! یہ منسوخ نہیں ہوئی، بلکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں لوگوں نے تساہل کیا ہے۔ (وارثوں میں) دو قسم کے والی ہیں: ایک والی وہ ہے جو وارث ہے، یہ وہ ہے جسے (مال سے) رزق دیا جائے گا۔ اور دوسرا والی وہ ہے جو وارث نہیں ہے، وہ وہ ہے جس کے بارے میں ارشاد ہے کہ معروف طریقے سے بات کہے، یعنی کہے: میں تمہیں دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
