العربية (الأصل)
نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ هَذِهِ الآيَةَ قَدْ نُسِخَتْ:وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ سورة النساء آية 8 , قَالَ:" لا وَاللَّهِ مَا نُسِخَتْ، وَلَكِنَّهَا مِمَّا تَهَاوَنَ النَّاسُ بِهَا وَهُمَا وَلِيَّانِ: وَلِيٌّ يَرِثُ، فَذَلِكَ الَّذِي يُرْزَقُ، وَوَلِيٌّ لَيْسَ بِوَارِثٍ، فَذَلِكَ الَّذِي يَقُولُ قَوْلا مَعْرُوفًا: إِنَّهُ مَالُ يَتَامَى وَمَا لِي فِيهِ شَيْءٌ".
الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding the verse: 'And your stepdaughters who are in your guardianship born of your wives unto whom you have gone in' (al-Nisa: 23): The stepdaughter is forbidden only if the man has consummated the marriage with her mother. If he has not consummated, then the stepdaughter is not forbidden.
الترجمة الأردية
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ﴾منسوخ ہو چکی ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ منسوخ نہیں ہوئی، بلکہ لوگوں نے اس میں کوتاہی کی ہے۔ وارث دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو میراث پاتا ہے، تو وہی ان کو رزق دیتا ہے، اور دوسرا وہ جو وارث نہیں ہوتا، تو وہ ان سے نرمی اور بھلائی کی بات کہتا ہے کہ یہ یتیموں کا مال ہے اور اس میں میرا کوئی حق نہیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 576]
