العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنهما ـ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى فَقَالَ لاَ. فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ.
الترجمة الإنجليزية
Khallad bin Yahya narrated to us, Malik (upon him be mercy) narrated to us, Hadrat Talha bin Musarrif (upon him be mercy) narrated to us, he said: I asked Hadrat Abdullah bin Abi Awfa (may Allah be well pleased with them both): Did the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) make a bequest? He replied: No. I submitted: Then how was the bequest prescribed upon the people, or how were they commanded to make a bequest? He stated: He (blessings and peace of Allah be upon him) bequeathed the Book of Allah.
الترجمة الأردية
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، ہم سے حضرت طلحہ بن مصرف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: پھر لوگوں پر وصیت کیسے لکھی گئی یا انہیں وصیت کا حکم کیسے دیا گیا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اللہ کی وصیت فرمائی۔
