العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةََ،ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ، وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ. فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا " ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her): Barirah came to Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) seeking her help with her Kitabah (contract for emancipation). She had not yet paid any installment of her Kitabah. Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said to her: 'Go back to your owners. If they agree that I pay your Kitabah and your Wala' (patronage) will be mine, I will do so.' Barirah mentioned this to her owners, but they refused and said: 'If she wishes to spend on you for reward, let her do so, but the Wala' will be ours.' Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) mentioned this to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He (blessings and peace of Allah be upon him) stated to her: 'Buy her and set her free, for the Wala' belongs only to the one who sets free.'
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن شہاب سے، عروہ سے، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اپنی مکاتبت (آزادی کی رقم) میں مدد مانگنے آئیں اور ابھی انہوں نے اپنی مکاتبت کی کچھ بھی ادائیگی نہیں کی تھی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا: اپنے مالکوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت ادا کر دوں اور تمہاری ولاء (سرپرستی) میری ہو تو میں ایسا کروں گی۔ بریرہ نے یہ بات اپنے مالکوں کو بتائی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا: اگر وہ تم پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا چاہیں تو کریں، لیکن ولاء ہماری ہوگی۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: خرید لو اور آزاد کر دو، کیونکہ ولاء تو اسی کی ہے جو آزاد کرے۔
