حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّجْوَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ أَىْ رَبِّ. حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ. فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Safwan bin Muhriz al-Mazini who said: I was walking with Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both), holding his hand, when a man came before us and asked: 'What did you hear from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about the secret conversation (between Allah and His servant on the Day of Judgement)?' He said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) state: 'Indeed, Allah the Exalted will draw the believer close and place His cover over him, concealing him. He will ask: Do you remember such-and-such sin? Do you remember such-and-such sin? The servant will say: Yes, my Lord. Until, when he has confessed all his sins and thinks he is doomed, Allah the Exalted will say: I concealed them for you in the world and I forgive them for you today. Then he will be given the book of his good deeds. As for the disbeliever and the hypocrite, the witnesses (angels, prophets, and all creation) will say: These are the ones who lied about their Lord. Beware! The curse of Allah is upon the wrongdoers.'
الترجمة الأردية
حضرت صفوان بن محرز مازنی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی (قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی خفیہ گفتگو) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ پھر فرمائے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! یہاں تک کہ جب وہ اپنے تمام گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین ہو جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان پر تیرا پردہ رکھا اور آج میں انہیں تیرے لیے بخش دیتا ہوں۔ پھر اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دی جائے گی۔ لیکن کافر اور منافق کے بارے میں گواہ (فرشتے، انبیاء اور تمام مخلوق) کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: يدنى المؤمن يوم القيامة من ربه حتى يضع كنفه عليه، فيقرره بذنوبه، فيقول: أتعرف ذنب كذا؟ أتعرف ذنب كذ…
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّجْوَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ أَىْ رَبِّ. حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ. فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ".
It is narrated by Hadrat Safwan bin Muhriz al-Mazini who said: I was walking with Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both), holding his hand, when a man came before us and asked: 'What did you hear from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about the secret conversation (between Allah and His servant on the Day of Judgement)?' He said: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) state: 'Indeed, Allah the Exalted will draw the believer close and place His cover over him, concealing him. He will ask: Do you remember such-and-such sin? Do you remember such-and-such sin? The servant will say: Yes, my Lord. Until, when he has confessed all his sins and thinks he is doomed, Allah the Exalted will say: I concealed them for you in the world and I forgive them for you today. Then he will be given the book of his good deeds. As for the disbeliever and the hypocrite, the witnesses (angels, prophets, and all creation) will say: These are the ones who lied about their Lord. Beware! The curse of Allah is upon the wrongdoers.'
حضرت صفوان بن محرز مازنی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سرگوشی (قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی خفیہ گفتگو) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ پھر فرمائے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! یہاں تک کہ جب وہ اپنے تمام گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین ہو جائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان پر تیرا پردہ رکھا اور آج میں انہیں تیرے لیے بخش دیتا ہوں۔ پھر اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دی جائے گی۔ لیکن کافر اور منافق کے بارے میں گواہ (فرشتے، انبیاء اور تمام مخلوق) کہیں گے: یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا۔ خبردار! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔