العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ". فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ، فَقَالَ " لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ". كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ، حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade al-Wisal (continuous fasting) in fasting. One of the Muslims submitted, "But you observe al-Wisal, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, "Who among you is like me? During the night, my Lord gives me food and gives me drink." When the people refused to stop continuous fasting, he (blessings and peace of Allah be upon him) fasted continuously with them for two days. Then the crescent moon of Eid was sighted, and he (blessings and peace of Allah be upon him) declared, "If the crescent had not appeared, I would have made you fast for more days." This was as a disciplinary measure for them when they refused to desist.
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک مسلمان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! آپ تو وصال فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کون میری طرح ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے اور وہی مجھے سیراب فرماتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال فرمایا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا۔ گویا جب صوم وصال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ ارشاد فرمایا۔
