العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، سَأَلُوا ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ ثُمَّ حَاضَتْ، قَالَ لَهُمْ تَنْفِرُ. قَالُوا لاَ نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ وَنَدَعَ قَوْلَ زَيْدٍ. قَالَ إِذَا قَدِمْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا. فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَسَأَلُوا، فَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ، فَذَكَرَتْ حَدِيثَ صَفِيَّةَ. رَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Ikrima that the people of Medina asked Hadrat Ibn `Abbas about a woman who got her menses after performing Tawafal- Ifada. He said, "She could depart (from Mecca)." They said, "We will not act on your verdict and ignore the verdict of Hadrat Zaid." Hadrat Ibn `Abbas said, "When you reach Medina, inquire about it." So, when they reached Medina they asked (about that). One of those whom they asked was Um Sulaim. She told them the narration of Safiya
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ایوب سے، عکرمہ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا جس نے طواف کر لیا تھا پھر اسے حیض آ گیا۔ آپ نے فرمایا وہ واپس چلی جائے۔ انہوں نے کہا ہم آپ کی بات نہیں مانیں گے اور زید کی بات نہیں چھوڑیں گے۔ آپ نے فرمایا جب مدینہ پہنچو تو پوچھ لینا۔ وہ مدینہ پہنچے اور پوچھا تو جن سے پوچھا ان میں ام سلیم بھی تھیں۔ انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث بیان کی۔
