العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ،. وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ ـ رضى الله عنهم ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلاَ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat Hafsa (may Allah be well pleased with her), the blessed wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), that she submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Why have the people ended their Ihram after Umra but you have not ended yours?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I have matted my hair (Talbid) and garlanded my sacrificial animal (Hadi), so I cannot end my Ihram until I have offered the sacrifice.'
الترجمة الأردية
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید کر رکھی ہے اور اپنی قربانی (ہدی) میں ہار ڈال دیا ہے، اس لیے میں قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہو سکتا۔
