العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ هِشَامٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَتَعَذَّرُ فِي مَرَضِهِ " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا " اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَدُفِنَ فِي بَيْتِي.
الترجمة الإنجليزية
Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqa (may Allah be well pleased with her) narrated: During his final illness, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would keep asking, 'Where am I today? Where will I be tomorrow?' — eagerly waiting for the turn of Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her). When my turn came, Allah took his blessed soul while he was reclining between my chest and my throat, and he was buried in my chamber.
الترجمة الأردية
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن حضرت بلال نے بیان کیا ہشام سے۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومروان یحییٰ بن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن حضرت زبیر نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض الوفات میں (ازواج مطہرات سے) دریافت فرماتے رہتے: آج میری باری کہاں ہے؟ کل میری باری کہاں ہوگی؟ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کا بےصبری سے انتظار فرماتے تھے۔ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک اس حال میں قبض فرمائی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے سینے اور حلق کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ہی حجرے میں دفن ہوئے۔
