العربية (الأصل)
390/505 عن عطاء بن أبي رباح قال: قال لي ابن عباس: ألا أريك امرأة من أهل الجنة؟ قلت: بلى. قال: هذه المرأة السوداء أتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: إني أصرع، وإني أتكشف، فادع الله لي. قال:"إن شئت صبرت ولك الجنة، وإن شئت دعوت الله أن يعافيك" فقالت: أصبر. فقالت: إني أتكشف، فادع الله أن لا أتكشف، فدعا لها.
الترجمة الإنجليزية
Ata' ibn Abi Rabah reported: Ibn Abbas said to me, 'Shall I show you a woman from the people of Paradise?' I said, 'Yes.' He said, 'This dark-skinned woman came to the Prophet, peace be upon him, and said, "I suffer from seizures and I become exposed, so supplicate to Allah for me." He said, "If you wish, you can be patient and Paradise will be yours, or if you wish, I will supplicate to Allah to heal you." She said, "I will be patient." Then she said, "But I become exposed, so supplicate to Allah that I do not become exposed." So he supplicated for her.'
الترجمة الأردية
عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ کہا: ضرور، کہا: یہ جو سیاہ عورت ہے، یہ (ایک بار) نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا کہ مجھے دورہ پڑتا ہے اور میں برہنہ ہو جاتی ہوں تو اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر تم چاہو تو صبر کرو تو تمہارے لیے جنت ہے، اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں صحت دے،“اس پر اس عورت نے کہا: میں صبر کرتی ہوں، مگر میں برہنہ ہو جاتی ہوں اس کے لیے اللہ سے دعا فرما دیں کہ میں برہنہ نہ ہوا کروں تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے لیے دعا کی۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 390]
