العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَمْرٍو الزُّرَقِيُّ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَزْرَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ، فَنَلْقَى شَيْخًا، قُلْتُ: أَيْ عَمِّ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَ غُلاَمَكَ هَذِهِ النَّمِرَةَ، وَتَأْخُذَ الْبُرْدَةَ، فَتَكُونُ عَلَيْكَ بُرْدَتَانِ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ؟ فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي فَقَالَ: ابْنُكَ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَكْتَسُونَ، يَا ابْنَ أَخِي، ذَهَابُ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ مَتَاعِ الْآخِرَةِ، قُلْتُ: أَيْ أَبَتَاهُ، مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَبُو الْيَسَر كَعْبِ بْنُ عَمْرٍو.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ubadah bin Walid said that he came out with his father Hadrat Ubadah bin al-Samit and he was a young man at that time. They met an elderly Shaikh who had a mantle over him and Maafi garments. His slave too had a mantle and Maafai. The narrator (Hadrat Ubadah bin Walid) said," My uncle! In this way, you would have had a pair of good quality garments and he would have had one striped mantle". The man turned to Hadrat Ubadah bin al-Samit and asked," Is he your son?" He said," yes" Hadrat Ubadah bin Walid said that the Shaikh stroked his head and said," May Allah bless you! I bear testimony that I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say that we must feed the slaves the same thing that we eat and clothe them that which we wear. O son of my brother! It is more dear to me that I lose the possessions of this world than I lose anything of the hereafter". Hadrat Ubadah bin Walid asked his father who the Shaikh was and he said." He is Abu al-Yasr Kab bin Amr"
الترجمة الأردية
حضرت عبادہ بن ولید فرماتے ہیں کہ وہ اپنے والد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکلے اور وہ اس وقت نوجوان تھے۔ انہوں نے ایک بزرگ شیخ سے ملاقات کی جن پر ایک چادر تھی اور معافری کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان کے غلام نے بھی ایک چادر اور معافری کپڑے پہنے تھے۔ راوی (عبادہ بن ولید) نے کہا: 'چچا! اس طرح آپ کے پاس اچھی قسم کے دو جوڑے کپڑے ہوتے اور اس کے پاس ایک دھاری دار چادر ہوتی۔' اس شخص نے عبادہ بن صامت کی طرف دیکھا اور پوچھا: 'یہ تمہارا بیٹا ہے؟' فرمایا: 'ہاں۔' عبادہ بن ولید فرماتے ہیں کہ شیخ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: 'اللہ تمہیں برکت دے! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: غلاموں کو وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔ اے میرے بھتیجے! مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ دنیا کا مال کھو دوں بجائے اس کے کہ آخرت کا کچھ کھو دوں۔' عبادہ بن ولید نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ شیخ کون ہیں؟ فرمایا: 'ابو الیسر کعب بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔'
