العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الأَحْلاَسِ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الأَحْلاَسِ قَالَ " هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَىْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِيَ الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لاَ تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ إِلاَّ لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لاَ نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لاَ إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hudhayfah ibn al-Yaman (may Allah be well pleased with them both) narrates: People used to ask the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about good, while I used to ask him about evil, fearing that it might overtake me. I once submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), we were in ignorance and evil, then Allah bestowed this good (Islam) upon us. Will there be any evil after this good? He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Yes. I submitted: Will there be any good after that evil? He stated: Yes, but it will contain some smoke (i.e. it will not be pure). I submitted: What will its smoke be? He stated: A people will follow a way other than my Sunnah; you will approve of some of their deeds and disapprove of others. I submitted: Will there be evil after that good? He stated: Yes, there will be callers at the gates of Hell; whoever responds to their call, they will cast him into it. I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), describe them for us. He stated: They will be of our own people and speak our tongue. I submitted: What do you command me if that time overtakes me? He stated: Hold fast to the congregation of the Muslims and their leader. I submitted: What if they have no congregation and no leader? He stated: Then withdraw from all those factions, even if you have to bite the root of a tree until death comes to you in that state.
الترجمة الأردية
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ سے برائی (فتنوں) کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ وہ مجھے آ نہ پکڑے۔ ایک بار میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور برائی میں تھے پھر اللہ نے ہمیں یہ بھلائی (اسلام) عطا فرمائی۔ کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی (فتنہ) آئے گی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: کیا اس برائی کے بعد پھر بھلائی آئے گی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، لیکن اس میں دھواں ہو گا (یعنی وہ خالص نہ ہو گی)۔ میں نے عرض کیا: اس کا دھواں کیا ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ایک قوم میری سنت سے ہٹ کر چلے گی، کچھ باتیں تم ان میں اچھی دیکھو گے اور کچھ بری۔ میں نے عرض کیا: کیا اس بھلائی کے بعد پھر برائی آئے گی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے، جو ان کی بات مانے گا وہ اسے اس میں ڈال دیں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے ان کی صفت بیان فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: وہ ہماری نسل سے ہوں گے اور ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا: اگر وہ زمانہ مجھ پر آ جائے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا۔ میں نے عرض کیا: اگر ان کی نہ جماعت ہو اور نہ امام ہو؟ آپ نے ارشاد فرمایا: پھر ان سب فرقوں سے الگ ہو جانا خواہ تمہیں درخت کی جڑ کاٹ کر کھانی پڑے یہاں تک کہ تمہیں اسی حال میں موت آ جائے۔
