العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ " لاَ بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذِهِ رِوَايَةُ يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَفِي رِوَايَتِهِ بِوَاسِطَ تَغَيُّرٌ عَلَى غَيْرِ هَذَا .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Safwan ibn Umayyah (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) borrowed coats of armor from him on the day of Hunayn. Safwan submitted: Is this seizure, O Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)? He stated: No, rather it is a guaranteed loan. Abu Dawud (upon him be mercy) said: This is Yazid's narration in Baghdad, and in his narration in Wasit there is a variation.
الترجمة الأردية
حضرت صفوان بن اُمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن اُن سے زرہیں عاریت لیں۔ صفوان نے عرض کیا: کیا یہ غصب ہے اے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، بلکہ عاریت ہے جس کی ضمانت ہے۔ حضرت ابوداؤد (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں: یہ یزید کی بغداد والی روایت ہے اور واسط والی روایت میں تبدیلی ہے۔
