العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ قَالَتْ فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً . فَقَالَ لَهَا " أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا " . قَالَتْ لاَ . قَالَ " فَلاَ يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Umm Hani (may Allah be well pleased with her) said: When it was the Day of the Conquest of Makkah, Hadrat Fatimah al-Zahra (may Allah be well pleased with her) came and sat to the left of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and Hadrat Umm Hani (may Allah be well pleased with her) sat to his right. A servant-girl brought a vessel containing a drink and handed it to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He drank from it, then handed it to Hadrat Umm Hani (may Allah be well pleased with her), and she drank from it. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I have broken my fast, and I was fasting. He stated: "Were you making up a fast (qada)?" She submitted: No. He stated: "If it was a voluntary fast, then it will not harm you."
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ ہانئ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب فتح مکہ کا دن آیا تو حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں، اور اُمّ ہانئ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی دائیں جانب بیٹھیں۔ پھر ایک لونڈی ایک برتن میں مشروب لے کر آئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر اُمّ ہانئ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیا اور انہوں نے بھی پی لیا۔ اُمّ ہانئ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے افطار کر لیا حالانکہ میں روزے سے تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا تم کوئی قضا روزہ رکھ رہی تھیں؟" انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ ارشاد فرمایا: "اگر نفلی روزہ تھا تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔"
