العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلاَلِ رَمَضَانَ مَرَّةً فَأَرَادُوا أَنْ لاَ يَقُومُوا وَلاَ يَصُومُوا فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلاَلَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ نَعَمْ . وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلاَلَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ikrimah (upon him be mercy) narrated that once people had doubt about the crescent of Ramadan and intended neither to perform the night prayer (tarawih) nor to fast. Then a Bedouin came from al-Harrah and testified that he had seen the crescent. He was brought before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who asked: "Do you testify that there is no god but Allah and that I am the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?" He submitted: Yes, and he testified that he had seen the crescent. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then commanded Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him), who announced among the people that they should stand for prayer and fast. Abu Dawud (upon him be mercy) said: A group narrated it from Simak, from Ikrimah, as a mursal report, and no one mentioned the standing (for prayer) except Hammad ibn Salamah.
الترجمة الأردية
حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں کو رمضان کے چاند میں شک ہو گیا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ نہ قیام کریں اور نہ روزہ رکھیں۔ اتنے میں حرّہ کی طرف سے ایک اعرابی آیا اور گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ اسے نبیِّ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟" اس نے عرض کیا: ہاں، اور اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا کہ قیام کریں اور روزہ رکھیں۔ حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اسے جماعت نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور قیام کا ذکر حمّاد بن سلمہ کے سوا کسی نے نہیں کیا۔
