العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا طُلِّقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُطَلَّقَةِ عِدَّةٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ طُلِّقَتْ أَسْمَاءُ بِالْعِدَّةِ لِلطَّلاَقِ فَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَتْ فِيهَا الْعِدَّةُ لِلْمُطَلَّقَاتِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Asma' bint Yazid bin al-Sakan al-Ansariyyah (may Allah be well pleased with her) narrated that she was divorced during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and at that time there was no prescribed waiting period ('iddah) for a divorced woman. When Hadrat Asma' (may Allah be well pleased with her) was divorced, Allah, the Exalted and Majestic, revealed the injunction prescribing the waiting period for divorce. She was thus the first divorced woman for whom the verse of the waiting period was revealed.
الترجمة الأردية
حضرت اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں انہیں طلاق دی گئی، اس وقت مطلقہ عورت کے لیے کوئی عدت مقرر نہ تھی۔ جب حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق ہوئی تو اللہ عزوجل نے طلاق کے لیے عدت کا حکم نازل فرمایا۔ چنانچہ یہی وہ پہلی خاتون ہیں جن کے بارے میں مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔
