عربی (اصل)
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثناإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنِالْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلامٍ الْحَبَشِيِّ، فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ مَحْمَلِي عَلَى الْبَرِيدِ، قَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ بِكَ يَا أَبَا سَلامٍ، وَلَكِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَأَبُو سَلامٍ: سَمِعْتُثَوْبَانَمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّحَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمُ الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنُسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ"، قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لا جَرَمَ وَاللَّهِ، لَقَدْ فُتِحَتْ لِي أَبْوَابُ السُّدَدِ، وَنَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ، إِلا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ تَعَالَى، لا جَرَمَ لا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ، وَلا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
انگریزی ترجمہ
Al-Abbas ibn Salim narrated: Umar ibn Abd al-Aziz sent for Abu Salam al-Habashi, and he was carried by the postal mount. When he arrived before Umar ibn Abd al-Aziz, he said: 'O Commander of the Faithful, the ride on the postal mount was very difficult for me.' Umar said: 'We did not intend hardship for you, O Abu Salam, but it reached me that you narrate a hadith from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (peace be upon him), about the Hawd (Pool). I wanted to hear it from you directly.' Abu Salam said: I heard Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (peace be upon him), say: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: "My Pool extends from Aden to Amman of al-Balqa. Its water is whiter than milk and sweeter than honey. Its drinking cups are as numerous as the stars of the sky. Whoever drinks from it a single drink will never feel thirst again. The first people to reach it will be the poor among the Muhajirun." Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) said: 'O Messenger of Allah, who are they?' He said: "They are those with disheveled hair and dirty clothes, who do not marry women of luxury, and for whom the doors of rulers are not opened." Umar ibn Abd al-Aziz said: 'Indeed, by Allah, the doors of rulers have been opened for me, and I have married a woman of luxury - Fatimah bint Abd al-Malik - unless Allah has mercy on me. I shall not oil my hair until it becomes disheveled, and I shall not wash the garment next to my body until it becomes dirty.'
اردو ترجمہ
عباس بن سالم نے بیان کیا عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کو پیغام بھیج کر بلایا تو وہ (جلد پہنچے کے لیے) ڈاک کے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، جب عمر بن عبد العزیز ان کے پاس آئے تو کہا: اے امیر المومنین! مجھے ڈاک کے گھوڑے پر سواری کی مشقت اٹھانا پڑی۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو سلام اہم آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں معلوم ہوا آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے آزادہ کردہ غلام سے حوض کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں، میں نے چاہا کہ آپ سے براہ راست وہ حدیث سنوں۔ ابو سلام نے کہا میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو بیان کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا:”میرا حوض عدن سے عمان بلقاء تک (کی مسافت جتنا لمبا) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو اس سے ایک بار پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ حوض پر سب سے پہلے فقراء مہاجرین آئیں گے۔“عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا، وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا:”جن کے سر پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے۔ ناز و نعت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔ ان کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔“عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے لیے دروازے کھولے گئے، اور میں نے ناز و نعمت میں پلنے والی فاطمہ بنت عبد الملک سے نکاح کیا، اللہ مجھ پر رحم فرمائے، اب میں ضرور سر کو تیل نہیں لگاؤں گا حتٰی کہ بال پراگندہ ہو جائیں اور اپنے جسم پر موجود کپڑے نہیں دھووں گا حتٰی کہ میلے نہ ہو جائیں۔[مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي سلام/حدیث: 64]
