عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَاعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْقُرَشِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنابِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنِالزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِيعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حَدِيثِنَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، أَنَّهُ انْتَجَىعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَالنَّاسُ مُخْتَلِطُونَ بِهِمَا لا يَسْمَعُ نَجْوَاهُمَا أَحَدٌ، فَلَمْ يَزَالا يَتَجَادَلانِ فِي الرَّأْيِ حَتَّى أَغْضَبَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عُمَرَ فِي بَعْضِ مَا يُكَلِّمُهُ فِيهِ، فَقَبَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ قَبْضَةً، فَحَصَبَ بِهَا وَجْهَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَشَجَّهُ بِالْحَصَى بِجَبْهَتِهِ آثَارًا مِنْ شِجَاجٍ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا يَنْسَابُ عَلَيْهِ مِنَ الدَّمِ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ:" امْسَحْ عَنْكَ الدَّمَ"، فَعَرَفَ عُثْمَانُ أَنَّ عُمَرَ قَدْ نَدِمَ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لا يَهُولَنَّكَ الَّذِي أَصَبْتَ مِنِّي، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَنْتَهِكُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ مِنْ رَعِيَّتِكَ الَّتِي اسْتَرْعَاكَ اللَّهُ أَكْثَرَ مِمَّا فَعَلْتَ بِي مِنْهُمْ، فَأُعْجِبَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ رَأْيِهِ وَحِلْمِهِ، وَازْدَادَ فِي عَيْنِهِ خَيْرًا.
انگریزی ترجمہ
Nawfal ibn Musahiq narrated that Umar ibn al-Khattab and Uthman ibn Hunayf (may Allah be pleased with them) were having a private conversation in the mosque while the people were around them but could not hear their discussion. They continued to debate their opinions until Uthman ibn Hunayf angered Umar over something he said. Umar (may Allah be pleased with him) grabbed a handful of pebbles from the mosque floor and threw them at Uthman's face, causing wounds and marks on his forehead from the pebbles. When Umar saw the blood flowing down his beard, he said: 'Wipe the blood from yourself.' Uthman understood that Umar regretted what he had done, so he said: 'O Commander of the Faithful, do not be alarmed by what you have done to me. By Allah, I am harsher with those you have appointed me over from your subjects whom Allah has entrusted to you than what you have done to me.' Umar (may Allah be pleased with him) admired his judgment and forbearance, and his esteem for him increased.
اردو ترجمہ
نوفل بن مساحق نے بیان کیا، امیر عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما مسجد میں سرگوشی سے بات کر رہے تھے، وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے جو ان کی سرگوشی نہیں سن رہے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی رائے سے مسلسل اختلاف کر رہے تھے حتٰی کہ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کسی بات پر غصہ دلا دیا، امیر عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھری اور انہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دے مارا۔ ان کی پیشانی سے خون پھوٹ پڑا، جب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بہتے خون کو ان کی داڑھی پر دیکھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اپنی داڑھی صاف کر لیں، عثمان رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، اے امیر المومنین! آپ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس پر مت گھبرائیں، اللہ کی قسم! میں ان کے ساتھ آپ کی رعایا میں سے جن پر آپ مجھے والی مقرر کریں گے اس سے بھی سخت برتاؤ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی رائے، ان کی بات، ان کی قوت برداشت پسند آئی اور ان کی عزت ان کی نظروں میں اور بڑھ گئی۔[مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن نوفل بن مساحق/حدیث: 50]
