عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُهُ . فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُزَاحِمُ عَلَيْهِ . فَقَالَ إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ " . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " لاَ يَضَعُ قَدَمًا وَلاَ يَرْفَعُ أُخْرَى إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Ubaid bin Umair narrated from his father:"Hadrat Ibn Umar was clinging on the two corners (in a manner that I had not seen any of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) doing) so I said: 'O Abu Abdur-Rahman! You are clinging on the two corners in a manner that I have not seen any of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) clining.' So he said: 'I do it because I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "Touching them atones for sins." And I heard him saying: "Whoever performs Tawaf around this House seven times and he keeps track of it, then it is as if he freed a slave." And I heard him saying: "One foot is not put down, nor another raised except that Allah removes a sin from him and records a good merit for him
اردو ترجمہ
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے“۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ ( سات چکر ) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن حضرت ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
