عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abbas bin Rabi'ah (may Allah be well pleased with him) said: "I saw Umar bin Al-Khattab kissing the (Black) Stone and saying: 'I am kissing you while I know that you are just a stone, and if I had not seen the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) kissing you, I would not kiss you
اردو ترجمہ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابن عمر سے بھی احادیث آئی ہیں۔
