عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا . فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَمَّارٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ كَرِهُوا أَنْ يَصُومَ الرَّجُلُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ وَرَأَى أَكْثَرُهُمْ إِنْ صَامَهُ فَكَانَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَكَانَهُ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Silah bin Zufar narrates: We were with Hadrat Ammar bin Yasir (may Allah be well pleased with him) when a roasted sheep was brought. He said: Eat. Some of the people moved aside and said: I am fasting. Hadrat Ammar (may Allah be well pleased with him) said: Whoever fasts on the day about which people have doubt, has disobeyed Abul-Qasim (blessings and peace of Allah be upon him). There are also narrations in this chapter from Hadrat Abu Hurairah and Hadrat Anas (may Allah be well pleased with them). Imam Tirmidhi (upon him be mercy) says: The hadith of Hadrat Ammar is Hasan Sahih. The practice of most of the scholars, including the Companions (may Allah be well pleased with them) and the Tabi'in after them, is in accordance with this. Sufyan al-Thawri, Malik bin Anas, Abdullah bin al-Mubarak, al-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq (upon them be mercy) also held this view. They considered it disliked to fast on the day of doubt, and most of them were of the view that if someone fasted on that day and it turned out to be Ramadan, he should make up a day in its place.
اردو ترجمہ
حضرت صلۃ بن زفر فرماتے ہیں: ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی تو آپ نے فرمایا: کھاؤ۔ پس بعض لوگ ایک طرف ہٹ گئے اور کہا: میں روزے سے ہوں۔ تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جس نے اس دن روزہ رکھا جس میں لوگوں کو شک ہو تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایات ہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ تعالیٰ بھی یہی فرماتے ہیں۔ انہوں نے یوم الشک میں روزہ رکھنا مکروہ قرار دیا ہے، اور ان میں سے اکثر کی رائے ہے کہ اگر کسی نے اس دن روزہ رکھا اور وہ رمضان کا ہو تو وہ اس کی جگہ ایک اور دن کی قضا کرے۔
