عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ عَمِّهَا، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَالْمَاءُ فَإِنَّهُ طَهُورٌ " . وَقَالَ " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالرَّبَابُ هِيَ أُمُّ الرَّائِحِ بِنْتُ صُلَيْعٍ . وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنِ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ . وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبَابِ . وَحَدِيثُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ . وَهَكَذَا رَوَى ابْنُ عَوْنٍ وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنِ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Hafsah bint Sirin narrated from Ar-Rabab, from her uncle Hadrat Salman bin Amir that he related that :the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "When one of you breaks his fast, then let him do so with dried dates, for they are blessed. Whoever does not find dates, then water, for it is purifying." And he said: "Charity given to the needy is (counted as) charity, and if it is given to relatives it is (counted as) two: charity and nurturing (the ties of kinship)
اردو ترجمہ
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے“، نیز فرمایا: ”مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق: «حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن حضرت سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- نیز شعبہ نے بطریق: «عاصم، عن حفصة، عن حضرت سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے، ۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق: «حفصة، عن الرباب، عن حضرت سلمان بن عامر» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ زینب، حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
