عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا اللُّؤْلُؤِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُعَاذٍ . وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ لاَ نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنِ اللَّيْثِ غَيْرَهُ . وَحَدِيثُ اللَّيْثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ مُعَاذٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . رَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ . وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ . وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ يَقُولاَنِ لاَ بَأْسَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ فِي وَقْتِ إِحْدَاهُمَا .
انگریزی ترجمہ
(Another chain) Qutaibah narrated :this Hadith to us, meaning the Hadith of Hadrat Mu'adh
اردو ترجمہ
اس سند سے بھی قتیبہ سے یہ حدیث یعنی حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- قتیبہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ہم ان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے لیث سے روایت کیا ہو، ۳- لیث کی حدیث جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، اور یزید نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے حضرت معاذ سے روایت کی ہے غریب ہے، ۴- اہل علم کے نزدیک معروف حضرت معاذ کی ( وہ ) حدیث ہے جسے ابو الزبیر نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے حضرت معاذ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۱؎، ۵- اسے قرہ بن خالد، سفیان ثوری، مالک اور دیگر کئی لوگوں نے بھی حضرت ابوالزبیر مکی سے روایت کیا ہے، ۶- اور اسی حدیث کے مطابق شافعی کا بھی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ سفر میں دو صلاۃ کو کسی ایک کے وقت میں ملا کر ایک ساتھ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
