عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ قَالَ شُعْبَةُ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوِ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَجَابِرٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ . وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ رَوَى هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ فَقَالَ سَعِيدٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ . وَقَالَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ . وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ . وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas bin Malik said: "When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) entered the toilet he would say: 'O Allah Indeed I seek refuge in You.'" Shu'bah (one of the narrators) said: "Another time he said: 'I seek refuge in You from AI-Khubthi and al-Khablth.' Or: 'Al-Khubthi and Al-Khaba'ith
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، زید بن ارقم، حضرت جابر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے، ۳- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری فرماتے ہیں: کہ ہو سکتا ہے قتادہ نے اسے ( زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔
