عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمُلَقَّبُ، مَرْدَوَيْهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ، وَبَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَحْدَثَ - يَعْنِي الرَّجُلَ - وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلاَتُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا . قَالُوا إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ وَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُهُ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَقَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَعَادَ الصَّلاَةَ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ . وَقَالَ أَحْمَدُ إِذَا لَمْ يَتَشَهَّدْ وَسَلَّمَ أَجْزَأَهُ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ " وَالتَّشَهُّدُ أَهْوَنُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي اثْنَتَيْنِ فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ . وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِذَا تَشَهَّدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ أَجْزَأَهُ . وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ حِينَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فَقَالَ " إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah bin Amr (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "When he commits Hadath - meaning a man - and he is sitting in the end of his Salat before saying the Taslim, then his Salat is acceptable
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے۔ شافعی کا یہی قول ہے، ۵- اور احمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی، ایک بار نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی، انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا۔
