عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، هُوَ الصَّغَانِيُّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : ( قلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ * اللَّهُ الصَّمَدُ ) فَالصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ لأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُولَدُ إِلاَّ سَيَمُوتُ وَلَيْسَ شَيْءٌ يَمُوتُ إِلاَّ سَيُورَثُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ يَمُوتُ وَلاَ يُورَثُ : ( لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ) قَالَ " لَمْ يَكُنْ لَهُ شَبِيهٌ وَلاَ عِدْلٌ وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Al-Aliyah narrated from Hadrat Ubayy bin Ka’b:“The idolaters were saying to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him): ‘Name the lineage of your Lord for us.’ So Allah, Most High, revealed: Say: “He is Allah, the One. Allah As-Samad.” So As-Samad is ‘the One Who does not beget, nor is He begotten,’ because there is nothing born except it will die, and there is nothing that dies except that it will be inherited from, and verily. Allah, the Mighty and Sublime, does not die, nor is He inherited from. ‘And there is none comparable to Him.’ He said: ‘There is nothing similar to Him, nor equal to Him, nor is there anything like Him.’”
اردو ترجمہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
