عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : (ثمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ) قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَىِّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الأَسْوَدَانِ وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ وَسُيُوفُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا . قَالَ " إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ هَذَا . سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ وَأَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah said:“When this Ayah was revealed: ‘Then on that Day, you shall be asked about the delights!’ the people said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! About which delights shall we be asked? For they are only the two black things, while the enemy is present and our swords are (at the ready) upon our shoulders?” He said: ‘But it is what shall come.’”
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں ( ایک کھجور دوسرا پانی ) ( ہمارا ) دشمن ( سامنے ) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ” ( تمہیں ابھی معلوم نہیں ) عنقریب ایسا ہو گا ( کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی ) “۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ( یعنی پچھلی روایت ) سفیان بن عیینہ حضرت ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔
