عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ مَا زِلْنَا نَشُكُّ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ حَتَّى نَزَلَتْْ : (ألهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ) قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ مَرَّةً عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَازِيٌّ وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ كُوفِيٌّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Zirr bin Jubaish reported from Ali [may Allah be well pleased with him] that he said:“We were still in doubt concerning the torment of the grave, until ‘the mutual rivalry diverts you” was revealed’.”
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں – اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ ( ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
